Share:
Notifications
Clear all

The breath of Gabriel if God on me bestow | Allama Iqbal  

  RSS

admin
(@admin)
Admin
Joined: 2 years ago
Posts: 3572
10/02/2020 8:31 pm  
وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں
خدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبُوں
حیات کیا ہے، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناگُوں
عجب مزا ہے، مجھے لذّتِ خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ مَیں اپنے آپ میں نہ رہوں
ضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستیِ شوق
نہ مال و دولتِ قاروں، نہ فکرِ افلاطوں
سبق مِلا ہے یہ معراجِ مصطفیٰؐ سے مجھے
کہ عالمِ بشَرِیّت کی زد میں ہے گردُوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُنْ فَیَکُوںْ‘
علاج آتشِ رومیؔ کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
اُسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اُسی کے فیض سے میرے سبُو میں ہے جیحوں

Book: Gabriel’s Wing

Topic: The breath of Gabriel if God on me bestow

Poet: Allama Muhammad Iqbal

How is this website, please share your feedback through this link: https://forms.gle/mZ5rsd995RxU2gEZ7
---------------------
WhatsApp Groups Subject wise #QueryVU
Join Now


Quote
Share: