Share:
Notifications
Clear all

[Solved] URD101 GDB Fall 2020


admin
(@admin)
Admin
Joined: 3 years ago
Posts: 6411
Topic starter  

URD101 GDB Fall 2020 Solution:

فیض احمد فیض ۱۳ فروری ،۱۹۱۱ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ مرے کالج سیالکوٹ سے انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔ اے اور پھر ایم۔ انگریزی و عربی کے امتحان پاس کیے ۔یہیں ادب خصوصاً شاعری سے دلچسپی ہوئی ۔ ’’ڈھاکہ سے واپسی پر‘‘  یہ نظم ڈھاکہ سے واپس آنے پر اس وقت لکھی جب وہ ڈھاکہ ۱۹۷۴ء سے محض تین برس قبل پاکستان کا حصہ تھا اب وہ بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ اس نظم کا پس منظر بھی یہی ہے کہ دراصل فیض احمد فیض نے یہ نظم سقوط ڈھاکہ کے بعد اس سے ہونے والے اثرات پر جو ان کی شخصیت پر مرتب ہوئے۔ فیض اپنی دھرتی سے ،وطن سے،ملک سے انتہائی محبت کرتے تھے اور اس وطن پر ہونے والا ہر ظلم و ستم ان کے دل کو بہت زیادہ جلاتا تھا۔ لیکن اس تمام تر جلن کے باوجود فیض کو اس کا صلہ یہ ملا کہ بار ہا انھیں پابہ زنجیر بھی ہونا پڑا اور زندان کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔   فیض کہتے ہیں کہ اتنی ملاقاتوں کے بعد ، اتنا عرصہ اکٹھا نبا لینے کے باوجود ہم اجنبی کے اجنبی ہی رہے اور تمام تر تعلقات کے بعد، تمام تر قرابت داری کے باوجود ہم ایک مرتبہ پھر اجنبی ہو گئے تو آخر کس قدر خاطر تواضع کرنا ہو گئی، کیسی آؤ بھگت کرنا ہو گئی، کس طرح سے اپنے محبوب کو لجھانا ہو گا کہ ہم اجنبیت سے آشنائی کا سفر طے کر سکیں۔ یعنی شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ تمام تر جتن کر لینے کے باوجود بھی اگر اسے محبوب کا قرب یا محبوب کی حقیقی محبت حاصل نہیں ہو پائی تو پھر شاید ممکن ہی نہیں اور کوئی طریقہ ہی نہیں کہ وہ اپنے محبوب کی خوشنودی حاصل کر سکے، اسے راضی کر سکے۔ ہم نے کیا کچھ نہیں کیا۔ ہم نے اس وطن کے حصول کے لیے جانوں کی قربانی دی۔کتنی ہی مائیں،بہنیں اور بیٹیاں اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ کتنے بوڑھوں کا کوئی سہارا نہیں رہالیکن اس کے باوجود ہر آنے والی بہارخون آلود ہے تو آخر وہ لمحہ کون سا ہو گا، وہ وقت کب آئے گا کہ ہماری زندگی میں بھی بہار آئے گی۔ وہ بہار جس کے ماتھے پر خون کے دھبے نہ ہوں۔ بلکہ اس کے ماتھے پر مسرتوں کا نشان ہو۔ وہ نشان کہ جس کی ضو ہر دل کو منور کر کے رکھ دے۔ فیض کہتے ہیں کہ جدائی کے ان لمحات میں دل کچھ ایسا شکستہ ہوا،طبیعت کچھ ایسی بوجھل ہوئی کہ جو ہمیں کہنا چاہئے تھا ہم وہ بھی نہ کہہ سکے۔ ہم نے بہت تعریف وتوصیف کی۔ ہم نے اپنے محبوب کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن اس ترک وفا میں صرف ہمارا تو قصور نہیں تھا۔ قصور تو دوسروں کا بھی تھا۔ مجموعی طور پر فیض احمد فیض نے نظم ڈھاکہ سے واپسی پرمیں مشرقی اور مغربی پاکستان کے تعلقات پر بات کی۔ اور کچھ ایسا طلسماتی سما قایم کیا کہ جیسے مغربی پاکستان مشرقی پاکستان کا عاشق ہو۔ اور وہ پاکستان جو اب بنگلہ دیش میں بدل چکا تھا وہ ایک ایسا محبوب ہو جس کے ساتھ پیمان وفا نبھایا نہ جا سکا ہو۔ اس میں وہی غلطیاں ہوئیں، وہی کوتاہیاں ہوئیں جو شاید ایک شاعر اپنی تمام تر خشوع وخصوح اور خلوص کے باوجود خود میں بھی محسوس کرتا ہے اور خود کو ہمیشہ ان کا الزام بھی دیتا چلا جاتا ہے۔ یہ بات کوئی غور ہی نہیں کرتا کہ محبوب بھی ظالم ہو سکتا ہے۔ محبوب بھی کہیں غلط ہو سکتا ہے لیکن بہرحال فیض کا محبوب ان سے اس طرح جدا ہو گیا کہ جیسے ہم سے مشرقی پاکستان ۔

Students kindly share assignment files in relevant subject timely for discussion/solution.
or directly share with us " Click here"
QueryVU Telegram Groups subject wise Join Now
QueryVU WhatsApp groups subject wise Join Now


Quote
Share: